‫50 سے زیادہ یورپی اور ایشیائی ممالک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر تعاون اور ترقیاتی کاموں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے جمع ہوئے

ژیان، چین، 11 ستمبر، 2019 / ژنہوا۔ ایشیا نیٹ/– 10 ستمبر کو چین کے شہر ژیان میں شروع ہونے والا یورو-ایشیاء اکنامک فورم 2019 اپنی توجہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر مرکوز رکھتے ہوئے اعلی سطح کے تعاون اور مضبوط ترقی کی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس فورم میں جرمنی، فرانس، قازقستان، اور پاکستان سمیت 50 سے زائد ممالک کے سیاستدان، کاروباری افراد اور اسکالرز شریک ہوئے۔

فورم کا آغاز ایک افتتاحی تقریب کے ساتھ ہواجس کے بعد ایک مکمل سیشن اور 10 متوازی سیشنز ہوئے جس میں مختلف موضوعات مثلا مالیات، ماحولیات، ثقافتی سیاحت، موسمیات، سائنس اور ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد شرکاء کے مابین متنوع، کثیرسطحی مکالموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممالک، بین الاقوامی تنظیموں، بڑی کارپوریشنوں اور مقامی حکومتوں کے مابین شراکت کو فروغ دینا تھا۔

ژیان میں جہاں قدیم سلک روٹ کا آغاز ہوا وہاں شریک ممالک کے شرکاء نے روٹ کے ساتھ موجود اقتصادی ترقی کے لحاظ سے بہترین ترقی حاصل کرنے والے اور بہتر معیار زندگی کا تجربہ کرنے والے ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے آغاز کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کیا ۔

مولڈووان پارلیمنٹ کے چیئرمین زینیڈا گریچینی نے کہا کہ “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے ہمارے لئے نئے مواقع اور تعاون کے امکانات روشن کیے۔” “سائنسی اور تکنیکی ایجادات نے چین کو ورلڈ فیکٹری سے ورلڈ لیبارٹری میں تبدیل کردیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مزید گہرے تعاون سے یورپ کو ایشیاء کے ساتھ جوڑیں گے۔”

یورو ایشیا اقتصادی فورم پہلی بار 2005 میں منعقد ہوا تھا اور اس کے بعد سے ہر دو سال بعد اس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ چین اور دیگر شریک ممالک کے لئے اکٹھے ہوکر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے مستفید ہونے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے اور آج تک اس نے 70 سے زائد سینو فارن تعاون کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا ہے جن میں انرجی کلب، نیو سینچری اربن ڈیولپمنٹ فنڈ، اور بین الاقوامی ڈیجیٹل لائبریری کی تعمیر شامل ہے۔

ذریعہ: یورو-ایشیاء اکنامک فورم 2019 کی انتظامی کمیٹی

منسلک تصویر کا لنک: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=344803