ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ میں رہنماؤں کو نئی ویکسینز کی صورت میں امید

- بڑے پیمانے پر اور بڑھتی ہوئی اینٹی بایوٹک مدافعت تشویشناک امر

بنکاک، 5 نومبر، 2013ء/پی آرنیوزوائر/ –

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کا منصوبہ کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (CaT) سائنسدانوں، محققین اور حیاتی ماہرین کو رواں ہفتے ویکسینز فار انٹیرک ڈیزیزیز (VED) کانفرنس میں طلب کرے گا تاکہ وہ گفتگو کرسکیں کہ کس طرح ایک مرکب ٹائیفائیڈ ویکسین اس بیماری سے بچنے میں عالمی کوششوں کو تیز تر کرسکتی ہے۔ پہلی بار ایک ویکسین کے ذریعے چھ ماہ کے بچے تک کو ٹائیفائیڈ سے تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ بالغ اور بچوں دونوں کو طویل المیعاد حفاظت کی بہترین سطح حاصل ہوگی۔

ڈیپ چلڈرن ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر، بھارت کی ڈائریکٹر اور ایشیا پیسفک پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کی منتخب صدر ڈاکٹر نوین ٹھاکر نے کہا کہ “ویکسینز ٹائیفائیڈ کی زد میں آنے والے سب سے زیادہ افراد کو حفاظت دینے کے لیے سستا، محفوظ اور فوری راستہ ہیں۔ مرکب ویکسین ٹائیفائیڈ سے حفاظت میں ایک سنگ میل ہے اور اسکول جانے والے بچوں، بالغان اور خصوصاً ننھے بچوں کی زندگیاں سدھارنے کی بہتر صلاحیت فراہم کرتی ہے، جو اس مرض کے بوجھ تلے بہت زیادہ دبے ہوئے ہیں۔”

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ٹائیفائیڈ ویکسینز کے استعمال کے حق میں سفارش کی تھی، لیکن اب بھی متاثرہ ممالک اسے اختیار کرنے میں پیچھے ہیں۔

ٹائیفائیڈ پر بڑھتی ہوئی توجہ ان خبروں کے دوران آئی ہے جبکہ یہ بیماری ایشیا میں اور نیم صحراوی افریقہ میں زیادہ جڑیں پکڑ رہی ہے۔ ٹائیفائیڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس کے خلاف بڑے پیمانے پر  مدافعت نے بھی لوگوں کو خطروں میں مبتلا کردیا ہے، لیکن بوجھ اور اس مدافعت کی جغرافیائی تقسیم کے حوالے سے نئے اعدادوشمار سامنے آ رہے ہیں۔

پیتھوجنز کے سربراہ اور برطانیہ میں ویلکم ٹرسٹ سینگر انسٹیٹیوٹ میں بورڈ آف مینجمنٹ کے نمائندہ ڈاکٹر گورڈن ڈوگن نے کا کہ “ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ جیسا کہ ایچ 58 کا ظہور خطرناک ہے اور یہ پہلے ہی مرض میں عالمی سطح پر اضافے کا سبب بن چکا ہے۔ ادویات کے خلاف مزاحمت کی تقسیم کی نقشہ کشی ان ممالک کے لیے ٹائیفائیڈ پر قابو پانے میں اہم ہوگی اور مریضوں کے لیے مناسب علاج کو یقینی بنانے اور غیر ضروری پریشانی سے بچنے کو یقینی بنائے گی۔”

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ٹائیفائیڈ سالانہ تقریباً 21 ملین افراد کو متاثر کرتا ہے اور 216,000 اموات کا سبب بنتا ہے، جن میں سے بیشتر اسکول جانے والے یا اس سے بھی کم عمر بچے ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او رپورٹ کرتا ہے کہ 90 فیصد ٹائیفائیڈ اموات ایشیا میں ہوتی ہیں۔ جبکہ نئے شواہد افریقہ میں انتہائی مخصوص اور وبائی ٹائیفائیڈ کو ظاہر کرتے ہیں۔

ڈھاکہ شیشو ہسپتال، بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ڈاکٹر سمیر ساہا نے کہا کہ “زیادہ وسیع اثرات کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسینیشن کی کوششوں کو لازماً دیگر حکمت عملی ذرائع جیسا کہ طبی علاج اور محفوظ پانی اور بنیادی نکاسی آب میں شامل کرنا ہوگا۔ لیکن ایشیا میں، جہاں ٹائیفائیڈ بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے، چین، تھائی لینڈ اور ویت نام ہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے ایسا کیا ہے۔”

بنیادی طور پر ٹائیفائیڈ کو فراہمی و نکاسی آب کے بہتر نظاموں کے ذریعے بڑے پیمانے پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ان بنیادی ڈھانچوں کی ترقی وسیع سرمایہ کاری پر منحصر ہے جو مستقبل قریب میں خطے کے بیشتر ممالک کے بس سے باہر ہے۔ اس کی تکمیل تک محفوظ، موثر اور سستی ویکسینز کے ساتھ مناسب طبی علاج تک بروقت رسائی ہی استعمال ہونی چاہیے۔

وی ای ڈی کانفرنس کے ٹائیفائیڈ ویکسینز پر ہونے والے سیشنز میں پینل اراکین بھارت، جمہوریہ کوریا، امریکہ اور برطانیہ سےتعلق رکھتے ہیں۔ ان کی پریزنٹیشنز اس امر پر زور دیں گی کہ عوامی شعور، مرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے بارے میں سمجھ،ویکسینز کو ترجیح دینا اور طویل المیعاد حکمت عملی تیاراور نافذ کرنا ٹائیفائیڈ سے تحفظ اور اس پر قابو پانے کے آج کے کئی چیلنجز پر غالب آنے میں مدد دے گا۔

 کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (CaT) کے بارے میں

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (CaT)بچوں کو میعادی بخار سے بچانے کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسینز کے استعمال کے حوالے سے عالمی، علاقائی، قومی اور شہری سطح پر معقول و مشاہدے کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں کو تیز تر اور برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے والے صحت و امیونائزیشن کے ماہرین کا عالمی فورم ہے۔ سی اے ٹی مقامی برادریوں کو ٹائیفائیڈ ویکسینز اختیار کرنے میں درپیش رکاوٹوں کو واضح کرنے کے لیے بھی کام کرتا ہے جوان کے خاتمے کے لیے ضروری بیشتر اور کلیدی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ سی اے ٹی سیکرٹریٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے اور اسے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے عطیات کی مدد حاصل ہے۔ سی اے ٹی کے مقاصد اس کی رکنیت کی سرگرمیوں کے ذریعے پورے ہوتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.COALITIONagainstTYPHOID.ORG اور www.TyphoidConference.org۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے بارے میں

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ (سابن) سائنسدانوں، محققین اور ویکسین کے ذریعے قابل علاج اور غفلت کے شکار منقطہ حارہ کے امراض (NTDs) کے انسانوں پر بوجھ کو کم کرنے کے لیے کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش 501 (سی) (3) انجمن ہے۔ 1993ء میں پولیو کی ویکسین کے موجد ڈاکٹر البرٹ بی سابن کے اعزاز میں بننے والی سابن متعدی اور غفلت برتے گئے منطقہ حارہ کے امراض کے خاتمے، ان سے تحفظ اور علاج کے لیے عالمی کوششوں میں صف اول میں موجود ہے۔

سابن نئی ویکسینز بناتا ہے، اور حکومتوں، تعلیمی اداروں، سائنسدانوں، طبی ماہرین اور دیگر غیر منافع بخش اداروں کی مدد سے موجودہ ویکسینز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وکاٹ کرتا ہے اور قابل دسترس طبی علاج تک مزید رسائی کو فروغ دیتا ہے ۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.sabin.org۔

The post ٹائیفائیڈ کے خلاف جنگ میں رہنماؤں کو نئی ویکسینز کی صورت میں امید appeared first on AsiaNet-Pakistan.

Leave a Reply