ورلڈ مانیومنٹس فنڈ نے 2014ء ورلڈ مانیومنٹس واچ کا اعلان کر دیا، خطرے سے دوچار ثقافتی ورثہ مقامات کی نشاندہی کرے گا

نیو یارک، 8 اکتوبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیاییٹ پاکستان — آج ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں ورلڈ مانیومنٹس فنڈ (ڈبلیو ایم ایف) صدر بونی برن ہیم نے 2014ء ورلڈ مانیومنٹس واچ کا اعلان کیا، جو ثقافتی ورثہ مقامات کے متنوع مجموعے کو پیش کر رہا ہے جو قدرتی قوتوں یا سماجی، سیاسی و اقتصادی تبدیلی کے باعث خطرے سے دوچار ہیں۔ 2014ء واچ 41 ممالک اور خطوں میں 67 مقامات کو پیش کرتا ہے جن میں قبل از تاریخ سے لے کر بیسویں صدی تک کے مقامات شامل ہیں۔

2014ء فہرست حفاظت کے مختلف مسائل کی واضح مشکلات کو ظاہر کرتی ہے جن میں تنازع اور آفت، وسائل کی کمی، ترقیاتی دباؤ (شہری، دیہی، سیاحتی)، اور ثقافتی روایتوں کا نقصان  شامل ہے۔ 2014ء واچ قدم اٹھانےکا مطالبہ کرتی ہے، اور مقامات کی نزاکت اور ان کو درپیش خطرات کی جانب بین الاقوامی توجہ مبذول کراتی ہے۔ یہ مقامی برادریوں کو مستقبل کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے ایک زیادہ بڑی حفاظتی برادری، حکومتی انجمنوں، تجارتی کفیلوں اور دیگر  کے ساتھ مل کر مواقع پہچاننے کے لیے کام کرنے کا بھی موقع دیتی ہے۔ چند مقامات کے لیے واچ میں شمولیت ان کی بقاء کی سب سے بڑی امید ہے۔ تمام 67 مقامات کی تفصیلی معلومات www.wmf.org/watch پر موجود پریس کٹ میں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ورلڈ مانیومنٹس واچ

1996ء میں جاری ہونے اور ہر دو سال میں جاری ہونے والا ورلڈ مانیومنٹس واچ دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ثقافتی مقامات کی جانب بین الاقوامی توجہ دلاتا ہے۔ واچ کی فہرست ان مقامات اور ان کے نامزدگان کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے، مقامی شراکت داری میں اضافہ کرنے، جدت طرازی اور تعاون کرنے اور موثر حل کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔

یہ فہرست آثار قدیمہ، تعمیرات، تاریخ فنون اور حفاظت کے شعبوں میں ورثے کے بین الاقوامی ماہرین کے ایک پینل کی جانب سے بنائی جاتی ہے۔

پروگرام کے آغاز سے اب تک 133 ممالک اور خطوں کے 740 سے زیادہ مقامات شامل کیے جا چکے ہیں۔ واچ مقامات کو ملنے والی بین الاقوامی توجہ  انہیں اہم وسائل فراہم کرتی ہے جس کے ساتھ مقامی ادارے مختلف ذرائع، بشمول شہری، علاقائی اور قومی حکومتوں؛ فاؤنڈیشنز؛ تجارتی کفیلوں؛ بین الاقوامی امدادی انجمنوں اور نجی عطیات کنندگان، کے ذریعے فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں۔ 1996ء سے اب تک ڈبلیو ایم ایف 54 ملین ڈالرز کا حصہ ڈال چکا ہے، جبکہ 200 ملین ڈالرز دیگر اداروں کی جانب سے ان مقامات کے لیے مختص کیے گئے۔ واچ کا سماجی اثر بھی اہم ہے، خصوصاً واچ ڈے کے ذریعے، جو 2012ء میں بنائے گئے پروگرام کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد عوامی تقریبات کے ذریعے مقامی آبادیوں کو اپنے ورثے سے ایک مرتبہ پھر منسلک کرنا ہے۔

Leave a Reply