گوانگژو، دو ہزار سالوں سے پھولوں کا عالمی شہر

گوانگژو، چین، 15 مئی 2017ء/سنہوا – ایشیانیٹ/–  14 اور 15 مئی کو دنیا بھر کی نظریں بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون کے اہم موقع پر تھیں۔ اسی وقت میری ٹائم سلک روڈ یعنی بحری شاہراہ ریشم پر واقع ایشیا، یورپ، امریکا اور افریقہ کے پانچ ممالک کی جانب سے پانچ قومی پھولوں پر مشتمل  علامات کے حامل پانچ خطوط بھیجے گئے، جو 21 ویں میری ٹائم سلک روڈ پر سفر کے آغاز کے لیے گوانگژو کے لیے ان “سفیروں” کے ذریعے فلورل وسپر کے ساتھ نیک خواہشات کے حامل تھے اور یوں “پھولوں کے عالمی شہر”  پر ملکی و عالمی توجہ دی گئی۔

کاپوک کے فلورل وِسپر گوانگژو، آئی انسپائر یو وِد پیشن کو ارجنٹائن کے کلارن نے شائع کیا جبکہ یاسمین کا گوانگژو، آئی اڈورن یو وِد ایلی گینس پاکستان کے ڈیلی ٹائمز نے دریں اثناء کنول کا فلورل وِسپر گوانگژو، آئی امبریس یو وِد وگر مصر کے الاہرام کی جانب سے بھیجا گیا اور گلاب کا گوانگژو، آئی امبریس یو وِد لو انگلینڈ کے روزنامہ ٹیلی گراف کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ سنگاپور میں ثعلب کا فلورل وِسپر گوانگژو، آئی ویلکم یو وِد مائی فرینڈشپ دی اسٹریٹ ٹائمز میں پیش کیا گیا۔ جوابی گوانگژو، فلاور سٹی ان بلوم بائے گوانگژو ٹو دی فلورل وِسپر شاہراہ ریشم پر وال اسٹریٹ جنرل میں ظاہر ہوا۔ انوکھا زاویہ نظر، فلورل وِسپر ، شاہراہ ریشم کے ساتھ فلورل وِسپر کی پوری کہانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور اس سے مطابقت رکھتا تھا۔ پوری دنیا گوانگژو کی شاندار تاریخ کے بارے  میں جانتی ہے کہ یہ “بحری شاہراہ ریشم کی جائے پیدائش” اور “ہزاریہ کمرشل شہر” ہے اور اب “کشادگی، حسن، طاقت، مشمولیت اور دوستی ” کا ایک بین الاقوامی تبادلہ مرکز ہے اور بین الاقوامی تجارت کے چوراہے پر واقع ہے۔

گوانگژو، دنیا کا مشہور ترین بندرگاہ شہر، تیسری صدی سے میری ٹائم سلک روڈ کی اہم بندرگاہ ہے، جو تجارت و سوداگری کے لیے عرصہ دراز سے ساکھ رکھتا ہے۔ یہ تانگ اور سونگ خاندان کے دور میں چین کی سب سے بڑی بندرگاہ تھا، اور منگ اور چنگ خاندان کے دور میں واحد بندرگاہ جو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلی ہوتی تھی۔

ہان خاندان کے عہد میں میری ٹائم سلک روڈ کے قیام کے ساتھ ساتھ گوانگژو میں مختلف پھول لائے گئے۔ شہر میں پھولوں کی تجارت تانگ خاندان کے عہد میں ملک بھر میں مشہور ہوئی۔ گوانگژو، ہزاریہ کاروباری شہر، دریائے پرل اور اس میں موجود کشتیوں کی وجہ سے رواں ہوا، جس نے اپنی رنگین ثقافت کو پھولوں سے قریب کیا۔ بحری شاہراہ ریشم گوانگژو میں صرف تجارت اور ثقافتی رابطے ہی نہیں لائی، بلکہ اسے “پھولوں کے شہر” کا خوبصورت نام بھی دیا۔

چین میں گوانگژو کو “چین کی کھڑکی” سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ دنیا کی جانب کھلتا ہے، اور ان امیر ترین اور ابتدائی شہروں میں سے ایک ہے جنہوں نے اصلاح اور کشادگی کی پالیسی کو اپنایا۔ گوانگژو میونسپل پارٹی کمیٹی پبلسٹی بیورو کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت گوانگژو دنیا کے لیے کھل رہا ہے اور زیادہ تیز رفتاری سے جدت اختیار کر رہا ہے، جدت طرازی، رابطہ کاری اور نقل و حمل کے ایک بین الاقوامی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ شاہراہ ریشم کی روح “امن و تعاون، کشادگي اور مشمولیت، مشترکہ تعلیم اور مشترکہ فائدے” پر متحرک انداز میں عمل کرتے ہوئے گوانگژو ایک اہم مثال اور چین اور دیگر ممالک اور خطوں کو 21 ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ کے ساتھ جوڑنے والا ربط بن رہا ہے۔

ہزاروں سالوں سے کھلا میری ٹائم سلک روڈ “ہزاریہ کمرشل شہر” میں مستقل قوت حیات اور “پھولوں کے عالمی شہر” میں نئی توانائی لا رہا ہے۔

ذریعہ: گوانگژو میونسپل پارٹی کمیٹی پبلسٹی بیورو

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=289484
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=289485
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=289486
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=289487